سیاست اور تعمیر و ترقی
جمہوریت سے آپ سبھی بخوبی واقف ہے لیکن ہمارے یہاں کی جمہوریت کا نظام کچھ الگ طرح کا ہے لوگوں کے حقوق کو پامال کرنا اور سراسر لوگوں کے تعمیر و ترقی کے ساتھ کھلواڑ کرنا اور یہاں دھوکے کا نام جمہوریت کہلاتا ہے لیکن یہ جمہوریت جس طرح سے مخلوط سرکاروں کی طرف سے کی جا رہی ہیں سراسر غلط ہیں ہے چاہے وہ NC ہو یا PDP دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک کے اندر رہتے ہوئے بھی لوگوں کی آواز کو پست کرنے کی کوشش اور لوگوں کی آواز کو دفن اور ذات پات میں تقسیم کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یہ صرف اور صرف ہمارے بلاک کلاس کے اندر ھی کیا جاتا ہے کیونکہ یہاں بہت سادہ شریف اور خوش مزاج لوگ رہتے ہیں جن کی تعلیم بہت کم ہے اور کم تعلیم والے لوگوں کے ساتھ یہ رویہ عام جمہوری نظام کو چلانے والے اقتدار پسند لوگوں کی جانب سے کیا جاتا ہے یہاں جس نے بھی عوام کی اور قوم کی آواز کو بلند کرنے کی کوشش کی تو اس کی آواز کو دفن کرنے کی کوشش کی جاتی ہے یہاں کے چند کچھ حضرات جو اپنے آپ کو بہت بڑے سیاستدان سمجھتے ہیں غریب عوام کا سودا وہ جاکے کسی MlA سے یا کسی CM سے خود ذاتی طور پر کر لیتے ہیں اور عوام کو ڈپریشن کا شکار کرکے اپنے ووٹ حاصل کرنے کی کوشش میں جوڈ جاتے ہیں اگر تعمیر و ترقی کی بات کی جائے جب سے کہی ملک کا وجود ہوا ہے تب سے ہم گجر برادری کے لوگوں کے ساتھ خاص کر روڈ پانی بجلی اور باقی تعمیر و ترقی میں بہت زیادہ استحصال ہوا ہے بہت سے لوگ ایسے بھی یہاں تشریف لائیں جن میں گجر برادری کے لوگوں کو شیڈول ٹریبل کے نام پر لوٹا آنے والے وقت میں میری خاص کر نوجوان نسل اور ذی شعور شہریت اور دیگر برادری کے لوگوں سے گزارش رہیں گی کہ اپنے حقوق اور اپنی تعمیر و ترقی کو سمجھنے کی ضرورت ہے نہ کی اور پارٹیوں کی طرح نہ آج بھی ہمارے ساتھ ایسا ہی نہ ہو جائے کہیں پھر سے ہم اپنے حقوق کو پامالی کے ڈبے میں بند کر کے رکھتے ہیں چند کچھ لوگ ایڈوکیٹ عبدالحق خان کو لے کے یہاں تشریف لائے اور چند لوگ قیصر جمشید لون صاحب کو لے کر یہاہ شریفلائے مجھے سمجھ میں نہیں آتا کہ ان کی فنڈس اور ان کی تعمیر و ترقی صرف چند لوگوں تک ہی محدود کیوں رہی جس کی وجہ سے پچھلے پندرہ سال میں میں عوام بے بہ روزگاری مہنگائی اور طرح طرح کی پریشانیوں میں خاص کر گجر برادری کے لوگ مبتلا ہیں نوجوانوں سے خاص کر آپ میری لاسٹ میں یہی گزارش رہیں گی کہ دیکھئے سیاست کسی کی باپ کی وراثت نہیں ہے جمہوریت ملک کے اندر رہتے ہوئے ہمیں جمہوریت کا پورا پورا حق ہے اس میں آگے آنے کی ضرورت ہے خاص کر نوجوانوں کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ ووٹ سہی قوم کی تقدیر بدلتی ہے اب کافی سارے لوگ یہ بھی سوال کریں گے کہ وہ ڈالنا گناہ ہے لیکن ایسا بالکل غلط ہے ڈالنا چاہیے کیونکہ اگر یزید کے ہاتھ پر پر امام حسن اور امام حسین بیعت کیوں نہیں کی کی تو اس تفسیر کو بھی دیکھنے کی ضرورت ہے جمہوریت کا سلسلہ نبیوں کے وقت سے چلا آرہا ہے لیکن ایسی جھوٹی جمہوریت جس کو آج چند سیاستدان چلا رہے ہیں ایسا بالکل نہیں ہے
امید کرتا ہوں کہ تحریر آپ کو پسند آئی ہوگی اگر تحریر پسند آئے تو اپنے دوستوں کے ساتھ بھی اور اپنی فیملی کے ساتھ بھی اور دوستوں کے ساتھ شیئر کریں
باقی والسلام
Comments
Post a Comment